اتوار 21 جون 2026 - 13:26
عزائے حسینؑ: ایمان، محبت اور قربت کا سرچشمہ

حوزہ/عزائے حسینؑ ہماری شہ رگِ حیات ہے۔ محرم اور عاشورا نے دینِ اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور اسے ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید بنا دیا۔ سید الشہداء امام حسینؑ "مصباح الہدیٰ" اور "سفینۃ النجات" ہیں۔ آپؑ اور آپ کے وفادار اصحاب و اقرباء کی عظیم قربانیوں نے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

تحریر: ڈاکٹر تقی نایانی

حوزہ نیوز ایجنسی| عزائے حسینؑ ہماری شہ رگِ حیات ہے۔ محرم اور عاشورا نے دینِ اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور اسے ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید بنا دیا۔ سید الشہداء امام حسینؑ "مصباح الہدیٰ" اور "سفینۃ النجات" ہیں۔ آپؑ اور آپ کے وفادار اصحاب و اقرباء کی عظیم قربانیوں نے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

برصغیر ہندو پاک سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں اہلِ تشیع کبھی اکثریت میں نہیں رہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں انہیں ظلم و ستم، تعصب، قتل و غارت گری اور سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہر دور میں ذکرِ حسینؑ ہی وہ قوت بنا جس نے اس مکتب کو بقا، حیات اور استقامت عطا کی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مناظروں، منطقی استدلالوں اور فلسفیانہ مباحث نے عوام الناس پر وہ اثر نہیں چھوڑا جو امام حسینؑ، اہلِ بیتؑ، اصحابِ حسینؑ اور شہدائے کربلا کے مصائب و مظلومیت کے تذکرے نے چھوڑا ہے۔ کربلا کا پیغام دلوں کو متاثر کرتا ہے، آنکھوں کو اشک بار کرتا ہے اور انسان کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبتِ اہلِ بیتؑ کا سب سے مضبوط ذریعہ ہمیشہ مجالسِ عزا رہی ہیں۔

ان ایامِ عزا میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مجالسِ حسینؑ کو ان کے اصل مقصد کے مطابق زندہ رکھیں۔ ان مجالس کے ذریعے عام مسلمانوں کو اہلِ بیتؑ، آئمۂ کرامؑ، اصحابِ حسینؑ اور شہدائے کربلا کا تعارف کرایا جائے، ان کی سیرت بیان کی جائے، ان پر ڈھائے گئے مظالم کا ذکر کیا جائے اور ان کی قربانیوں کے مقاصد کو اجاگر کیا جائے۔

مناظرانہ گفتگو، پیچیدہ فلسفیانہ مباحث اور ایسے علمی نکات جو ایک عام مسلمان کی سمجھ سے بالاتر ہوں، عوامی مجالس کا بنیادی موضوع نہیں بننے چاہئیں۔ ایسے موضوعات اہلِ علم کی علمی نشستوں اور تحقیقی مجالس کے لیے زیادہ مناسب ہیں۔ مجلسِ حسینؑ کا مقصد دلوں کو جوڑنا، شعور بیدار کرنا اور محبتِ اہلِ بیتؑ کو فروغ دینا ہے۔

ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ نادانستہ طور پر بھی ایسی گفتگو نہ کی جائے جو عام مسلمانوں یا دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے دلوں میں رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتؑ کے بارے میں دوری یا بدگمانی پیدا کرے۔ منبرِ رسولؐ سے ایسی گفتگو ہونی چاہیے جو دلوں کو قریب کرے، نفرتوں کو کم کرے اور لوگوں کو حقائق سے آشنا کرے۔

ہمارا ایمان ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ، حضرت سیدۂ طاہرہؑ اور آئمۂ معصومینؑ، خصوصاً سید الشہداء امام حسینؑ کے مصائب کے ذکر میں ایسی تاثیر اور روحانی قوت موجود ہے جو ہر صاحبِ دل انسان کو متاثر کر سکتی ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جن کے دل ظلم، تعصب یا عناد سے بالکل بند ہو چکے ہوں، ہر انصاف پسند انسان کربلا کے پیغام سے متاثر ہوتا ہے۔

منبرِ رسولؐ لوگوں کے درمیان محبت، اخوت اور ہدایت کو فروغ دینے کے لیے ہے۔ لہٰذا ہماری گفتگو ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کی رہنمائی کرے، ان کے مسائل میں آسانی پیدا کرے، انہیں خدا اور اہلِ بیتؑ سے قریب کرے، اور معاشرے سے ظلمت، نفرت اور تفرقے کا خاتمہ کرنے کا ذریعہ بنے۔

اگر ہماری مجالس دلوں میں محبتِ اہلِ بیتؑ، کردار میں بہتری، اور معاشرے میں اتحاد پیدا کر رہی ہیں تو یقیناً ہم امام حسینؑ کے مقصد کے قریب ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں تو ہمیں اپنے طریقۂ تبلیغ اور اندازِ بیان پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha